اردو جواب پر خوش آمدید

+4 ووٹس
677 مناظر
نے خاندان اور تعلقات میں
نے
میرے خیال میں تو تربیت کی ذمہ داری زیادہ تر ماں کے حصے میں آتی ہے۔۔
نے
ماں باپ دونوں کی ذمہ داری ہے
(890 پوائنٹس) نے
یہ درست ہے کہ بچے کی اولین درسگاہ آغوشِ مادر کو ہی سمجھا جاتا ہے البتہ باپ کو اس ذمہ داری سے مبرا نہیں سمجھا جا سکتا۔ دونوں کے مشاہدات اور تجربات مل کر ہی بہترین تربیت فراہم کر سکتے ہیں ۔

1 جوابات

+3 ووٹس
(1.7ہزار پوائنٹس) نے
نے منتخب شدہ
 
بہترین جواب
بچے کی تربیت کی بنیادی درس گاہ تو ماں ہی ہے۔ اس کی تربیت تو ماں کے پیٹ سے شروع  ہوجاتی ہے،وہ سب سنتا ہے اور اس بات کی تصدیق سائنس بھی کرتی ہے۔پر  اگر ہم اس کے بعد دیکھیں تو بچے  کی تربیت کوئی ایک نہیں  کرتا بلکہ اس میں بہت سارے لوگوں کا کردار ہوتا ہے جیسے اس کے استاد ان کا رویہ، اس بچے کے دوست اور آس پاس کے لوگ کیونکہ انسانی نفسیات ہے کہ وہ سب سے زیادہ جلدی observational learning کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک بچہ اپنی کلاس میں کسی کو اسکول میں دیر آتے دیکھ سزا ملتے دیکھتا ہے تو اسے فورا سبق لیتا ہے کہ اگر میں دیر سے آیا تو میرے ساتھ بھی یہی ہوگا۔ پھر بچے کی تربیت میں اہم کردار اس کے گھروالوں کا بھی ہوتا ہے، بچہ ایک ایک چیز نوٹ کرتا ہے یہاں تک کہ اگر غور کیا جائے تو وہ بات بھی وہسے ہی کریگا جیسے آپ اسے بات کریں گے، اس لئے بچے کو کنوے کی آواز بھی کہا جاتا ہے، کوئی اسے آپ جناب کرکے بات کریگا تو بچہ بھی آپ کرکت بات کریگا۔ گھروالوں میں بھی اگر بچہ کسی ایک کے پاس زیادہ وقت گزارتا ہے ایاں وہ دادی ہوں یا دادا، نانی ہوں یا نانا تو ایسی صورت میں تربیت کی ذمیداری وہ لوگ سنبھال رہے ہیں۔ ایک psychologist تھا، sigmund Freud جس کا کہنا تھا کہ بچے کی شخصیت کے 5 سٹیجس ہوتے ہیں، ان میں اگر ماں باپ نے کسی چیز کی زیادتی یا کمی کی تو اسے بھی بچے کی شخصیت  اثر انداز ہوتی ہے۔ پھر ایک ماہرِ نفسیات کہتا تھا کہ مجھے ایک بچہ دو میں اسے پانچ سال کی عمر تک تیار کردونگا کہ وہ بڑا ہوکر کیا بنے گا کیونکہ اس کے لحاظ سے بچے کی تربیت پانچ سال میں مکمل ہوجاتی ہے۔ اور اس میں ماں باپ نہیں تو کوئی بھی وہ شخص شامل ہوتا ہے جس کے پاس بچے کا وقت زیادہ گزرتا ہو۔
(2.0ہزار پوائنٹس) نے
بہت زبردست اور مفصل جواب ماشاءاللہ۔
ہماری ماہرِ نفسیات بیٹی کے علم میں اللہ مزید برکتیں عطا فرمائے آمین۔
نے
آمین ثم آمین
جزاک اللہ، امی جان
(11.4ہزار پوائنٹس) نے
جواب کے لئے شکریہ انعم

السلام علیکم!

ارود جواب پرخوش آمدید۔

کیا آپ کے ذہن میں کوئی ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں! تو آپ بالکل درست جگہ آئے ہیں۔ کیونکہ اردو جواب پر فراہم کیے جاتے ہیں آپ کے سوالات کے جوابات، وہ بھی انتہائی آسان لفظوں میں۔ سوال خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو مگر ہمارے ماہرین کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں۔ تو ابھی اپنا سوال پوچھیے اور جواب حاصل کیجئے۔

اگر آپ بھی اردو جواب پر موجود کسی سوال کا جواب جانتے ہیں تو جواب دے کر لوگوں میں علم بانٹیں، کیونکہ علم بانٹے سے ہی بڑھتا ہے۔ تو آج اور ابھی ہماری ٹیم میں شامل ہوں۔

اگر سائٹ کے استعمال میں کہیں بھی دشواری کا سامنا ہو تودرپیش مسائل سے ہمیں ضرور آگاہ کیجیئے تاکہ ان کو حل کیا جا سکے۔

شکریہ



Pak Urdu Installer

ہمارے نئے اراکین

669 سوالات

784 جوابات

409 تبصرے

1.2ہزار صارفین

...